نئی دہلی،18؍نومبر(آئی این ایس انڈیا) نریندر مودی کو کلین چٹ کے خلاف ایس آئی ٹی نے ذکیہ جعفری کی سپریم کورٹ نے بدھ کو عرضی کی سماعت کی۔ ذکیہ جعفری نے سپریم کورٹ کوبتایاہے کہ گجرات فسادات کے سانحہ کو روکا جا سکتا تھا۔ گجرات فسادات کے دوران حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تھے اب کئی مقامات پر فرقہ وارانہ واقعات کے دوران احتیاطی اقدامات کا فقدان دیکھا جا سکتا ہے۔ فرقہ وارانہ واقعات کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے ذکیہ کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ جب فرقہ وارانہ واقعات کا خدشہ ہوتا ہے تو تشدد کو روکنے کے لیے پولس کا دستور موجود ہے لیکن اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔ یہ دستور العمل صرف ایک مطبوعہ لفظ ہے۔سپریم کورٹ 23 نومبر کو سماعت جاری رکھے گا۔کپل سبل نے کہاہے کہ احتیاطی تدابیر میں انٹیلی جنس ذرائع کو چوکنا رکھنا، شہر اور گاؤں میں گشت کرنا، چھوٹے واقعات کی اطلاع دینا شامل ہے۔